براہ راست مواد پر جائیں (Skip to main content)
بدھ 26 اگست 2026ء|
Daily Wateen - روزنامہ وطین
اداریہ و تجزیات· بریکنگ نیوز· وہاڑی ایڈیشن
·

پاک سعودی زرعی شراکت داری

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سفارتی ضرورت یا وقتی مفادات کا نام نہیں بلکہ دنیا کی بہترین اور دیرینہ روایات پر مبنی ہیں۔

رپورٹ: سٹاف رپورٹر·منگل، 1 ستمبر، 2026·13 مشاہدات
شیئر:واٹس ایپ·فیس بک·X·
پاک سعودی زرعی شراکت داری
ماخذ: Daily Wateen Islamabad 02 09 2026.pdf

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سفارتی ضرورت یا وقتی مفادات کا نام نہیں بلکہ دنیا کی بہترین اور دیرینہ روایات پر مبنی ہیں۔ یہ وہ رشتے ہیں جن کے تحفظ اور پاسداری میں تمام آزمائشوں کا سامنا کرتے ہوئے اپنی بنیادی اور بنیادی اقدار میں ممالک کے درمیان مذہبی، سیاسی، دفاعی اور عوامی سطح کے تعلقات پہلے ہی گہرے ہیں، ہم نامہ الہیہ میں اور ان تعلقات میں معاشی اور تجارتی پہلوؤں پر ماہر اور بھر کرنے آرہا ہے۔ خصوصاً زرعی اور غذائی شعبے میں تعاون کے حوالے سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والی حالیہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک اپنے باہمی تعلقات کو روایتی تجارت سے آگے بڑھا کر ایک جامع اور عملی معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے آئندہ دو برس میں سعودی عرب کے لیے پاکستانی زرعی اور غذائی مصنوعات کی برآمدات کو تین ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے لاء اسٹاک، ایگریکروڈ پراسیسنگ اور چاول کی ڈیجیٹل کمپلیکس اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان سے سرخ گوشت کی درآمد پر پابندی ہٹانے اور چاول کی دو طرفہ تجارت بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار بھی پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ اگر اس موقع کو درست حکمت عملی، معیار مسلسل اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ بروئے کار لایا جائے تو تین ارب ڈالر کا ہدف محض ایک ہندسہ رہے گا بلکہ پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے ایک نئے دور کا نقطہ آغاز بن سکتا ہے۔ تجزیہ پی این پی کے مطابق پاکستان کے لیے سب سے اہم مسائل میں سعودی عرب کی پاکستانی مصنوعات خریدنے میں دلچسپی نہیں ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس زرعی پیداوار، طلب کو مستقل برآمدی صلاحیت میں تبدیل کرنے کے لیے کس حد تک تیار ہے ۔ سعودی منڈی میں جگہ بنانا فائقا اہم ہے، لیکن یہ ہے کہ اگر زرعی اشیا میں کسی جگہ زیادہ اہم ہوگا، عالمی منڈی میں معیار، صفائی، بیگز، ریٹنگ، پیکیجنگ اور بروقت ترسیل اور مسابقتی قیمت بنیادی تقاضا ہے تو۔ اگر پاکستانی زرعی مصنوعات ان تمام پیمانوں پر پوری اتریں تو سعودی عرب صرف ایک بڑی منڈی ہی نہیں بلکہ پاکستانی زرعی برآمدات کے لیے ایک طویل المدتی ترقی کا مرکز بھی بن سکتا ہے۔ سعودی وزیر ماحولیات، پانی وزارت کے دورہ پاکستان اور متعلقہ حکام کے ساتھ مذاکرات نے اس خواب کو اداریہ بنایا فارم نگر میں سعودی وفد کا استقبال کیا گیا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایگریکروڈ پراسیسنگ پلانٹ کا بریک تھلک، خصوصی سرٹیفیکیشن سپورٹ لوکل فاؤنڈیشن، پاکستان سعودی عرب ایگریکری پروسیس اور ڈیجیٹل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر کے دورے اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک اب زرعی شعبے کو محض روایتی ٹریک تک محدود رکھنے کے بجائے تحقیق، سرمایہ کاری، کاروبار اور پیداوار کے مختلف شعبوں سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہاں پاکستان کے لیے ایک بنیادی حقیقت کا اندازہ لگانا یہ ہوگا کہ مسابقتی میں جماعت میں زراعت کا کردار بنیادی نوعیت کا ہے، مگر اس کے باوجود ہماری زرعی پیداوار کا بڑا حصہ روایتی طریقوں، کم پیداوار کی صلاحیت، ناقص ذخیرے کار اور محدود ویلیو ایڈیشن کی وجہ سے تباہی کا شکار ہوتی ہے۔ حاصل کردہ فصل کا تحفہ، اہم پھل، سبزیاں، چاول، گوشت، ڈیوٹی مصنوعات اور دیگر زرعی اجناس پیدا کرتے ہیں، لیکن ان میں سے بڑی مقدار عالمی معیاری پروسیسنگ، پیکیجنگ اور بریکنگ کے مرحلے طے نہیں کیے جاتے، یقیناً پاکستان کا عام مال یا کم قیمت مصنوعات پر برآمد کرنے پر پاک پاکستانی زرعی وڈی آبادی آمدنی ویلیو ایڈیشن کرنے والے ممالک حاصل کرتے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ موجودہ تعاون کو پاکستان اس کو ضروری ٹول پاسے کا موقع فراہم کرتا ہے، اگر ایگریکروڈ پراسیسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی جائے، جدید کولڈ چین نظام قائم کیے جائیں، گوشت کی پراسیسنگ اور سٹرینجریشن کے حامی تھانے پورے کیے جائیں، چاول کی برڈنگ، بہترین جاتی اور پھلوں وسبزیوں کی پیکیجنگ اور مطلوبہ اسٹوریج جیا جائے تو ایک بڑی زرعی اور دار سے حاصل ہونے والی درآمدی آمدنی کی کتنا بڑھائی جاسکتی ہے۔ سعودی عرب کے لیے بھی پاکستان ایک اہم شراکت دار ہوتھ ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب کی یہ غذائی ضرورت پوری کرنے، غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے اور عالمی سطح پر اپنی خوراک کی سپلائی چین کو محفوظ بنانے کی پالیسی عملیل طرہ ہے۔

روزنامہ وطین (Daily Wateen) · اشاعت: اسلام آباد، لاہور، وہاڑی
ABC Certified

متعلقہ خبریں (اداریہ و تجزیات)

مزید اداریہ و تجزیات خبریں →